"I formed a partnership with 'Ammar and Sa'd on the day of Badr. Sa'd brought two prisoners but 'Ammar and I did not bring anything." It was narrated from Az-Zuhri concerning two slaves who were partners, and one of them quit, that he said: "One of them may cover for the other if they were partners."
"غزوۂ بدر کے دن عمار، سعد اور میں ساتھی تھے؛ سعد دو قیدی لے کر آئے، جبکہ نہ عمار کچھ لا سکے اور نہ ہی میں۔" ہمیں علی بن حجر نے خبر دی، کہا: ہمیں ابن مبارک نے یونس سے خبر دی، زہری کہتے ہیں کہ مفاوضہ کے طور پر دو غلام شریکوں پھر ایک مکاتبت کر لے تو یہ جائز ہے اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں شریک میں یہ بات طے ہو کہ ہر ایک دوسرے کی طرف سے ادا کرے گا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، يَوْمَ بَدْرٍ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلاَ عَمَّارٌ بِشَىْءٍ. أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي عَبْدَيْنِ مُتَفَاوِضَيْنِ كَاتَبَ أَحَدُهُمَا قَالَ جَائِزٌ إِذَا كَانَا مُتَفَاوِضَيْنِ يَقْضِي أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ.
The Prophet [ﷺ] said: I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad ﷺ is His slave and Messenger. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad ﷺ is His slave and Messenger, and they pray as we pray and face our Qiblah, and eat our slaughtered animals, then their blood and wealth becomes forbidden to us except for a right that is due.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کفار و مشرکین سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارے ذبیحے کھانے لگیں تو اب ان کے خون اور ان کے مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے الا یہ کہ ( جان و مال کے ) کسی حق کے بدلے میں ہو ( تو اور بات ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا .
The Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [ﷺ]. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah [ﷺ], and they face our Qiblah, eat our slaughtered animals, and pray as we do, then their blood and wealth become forbidden except for a right that is due, and they will have the same rights and obligations as the Muslims.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر ( جان و مال کے ) کسی حق کے بدلے، ان کے لیے وہ سب کچھ ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے، اور ان پر وہ سب ( کچھ واجب ) ہے جو مسلمانوں پر ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ .
O Abu Hamzah, what makes the blood and wealth of a Muslim forbidden? He said: Whoever bears witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW], faces our Qiblah, prays as we pray, and eats our slaughtered animals, he is a Muslim, and has the same rights and obligations as the Muslims.
ابوحمزہ! کس چیز سے مسلمان کی جان، اور اس کا مال حرام ہو جاتے ہیں؟ کہا: جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے، ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے، اسے وہ سارے حقوق ملیں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اس پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو مسلمانوں پر ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمُسْلِمِ، وَمَالَهُ ؟ فَقَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَهُوَ مُسْلِمٌ لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ .
When the Messenger of Allah [ﷺ] died, the 'Arabs apostatized, so 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'O Abu Bakr, how can you fight the 'Arabs?' Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: 'The Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah, and they establish Salah and pay Zakah. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [ﷺ], I will fight them for it.' 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'By Allah, as soon as I realized how certain Abu Bakr رضی اللہ عنہ was, I knew that it was the truth.'
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو بعض عرب مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم نہ کریں اور زکاۃ نہ دیں، اللہ کی قسم! اگر وہ بکری کا ایک بچہ بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے لیے ان سے جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے دیکھی کہ انہیں اس پر شرح صدر ہے تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ الْعَرَبَ ؟، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ . وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ. قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
When the Messenger of Allah [ﷺ] died and Abu Bakr رضی اللہ عنہ became the Khalifah after him, and some of the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar رضی اللہ عنہ said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ: 'How can you fight the people when the Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah.?' Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: 'By Allah, I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah [ﷺ], I will fight them for withholding it.' 'Umar, رضی اللہ عنہ , said: 'By Allah, as soon as I realized that Allah has expanded the chest of Abu Bakr رضی اللہ عنہ for fighting, I knew that it was the truth.'
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے خلیفہ بنے اور عربوں میں سے جن لوگوں کو کافر ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، پس جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے محفوظ کر لی مگر اس کے ( یعنی جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ رسی کا ایک ٹکڑا ۱؎ بھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے مجھے دینے سے روکیں گے تو میں اس کے نہ دینے پر ان سے جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے، اور میں نے یہ جان لیا کہ یہی حق ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it then their blood and their wealth are safe from me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah.' When the people apostatized, 'Umar رضی اللہ عنہ said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ: 'Will you fight them when you heard the Messenger of Allah [ﷺ] say such and such?' He said: 'By Allah, I do not separate Salah and Zakah, and I will fight whoever separates them.' So we fought alongside him, and we realized that that was the right thing. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: Sufyan is not strong in (his narrations from) Az-Zuhri, and he is Sufyan bin Husain.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ لوگ یہ کہنے لگیں تو اب انہوں نے اپنے خون، اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے، پھر جب «ردت» کا واقعہ ہوا ( مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان سے جنگ کریں گے حالانکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا اور ایسا فرماتے سنا ہے؟ تو وہ بولے: اللہ کی قسم! میں نماز اور زکاۃ میں تفریق نہیں کروں گا، اور میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو ان کے درمیان تفریق کرے گا، پھر ہم ان کے ساتھ لڑے اور اسی چیز کو ہم نے ٹھیک اور درست پایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: زہری سے روایت کرنے والے سفیان قوی نہیں ہیں اور ان سے مراد سفیان بن حسین ہیں ۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَتُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رُشْدًا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُفْيَانُ فِي الزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ.
The Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah. Shu'aib bin Abi Hainzah combined the two Hadith together.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، چنانچہ جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لیا مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ شعیب بن ابی حمزہ نے اپنی روایت میں دونوں حدیثوں کو جمع کر دیا ہے ( یعنی: واقعہ ردت اور مرفوع حدیث ) ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . جَمَعَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا.
When the Messenger of Allah [ﷺ] died, and Abu Bakr (became Khalifah) after him, and the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah, the Mighty and Sublime?' Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: 'I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [ﷺ], I will fight them for withholding it.' 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'By Allah, as soon as I saw that Allah has expanded the chest of Abu Bakr رضی اللہ عنہ to fighting, I knew that it was the truth.'
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے جن لوگوں نے کفر ( ارتداد ) کی گود میں جانا تھا چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ إلا اللہ نہ کہیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنا مال، اپنی جان محفوظ کر لیا، مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے میں، اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: میں ہر اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں تفریق کرے گا کیونکہ زکاۃ یقیناً مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر ان لوگوں نے بکری کا ایک بچہ بھی مجھے دینے سے روکا جسے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اس کے روکنے پر ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
The Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says it, his life and his wealth are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah. Al-Walid bin Muslim contradicted him.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہیں تو جس نے یہ کہہ دیا، اس نے اپنی جان اور اپنا مال مجھ سے محفوظ کر لیا مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔ ولید بن مسلم نے عثمان کی مخالفت کی ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ، وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ . خَالَفَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ.
So Abu Bakr decided to fight them, then 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [ﷺ] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and if they say it, their blood and their wealth will be safe from me except for a right that is due.?' Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: 'I will fight whoever separates prayer and Zakah. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [ﷺ], I will fight them for withholding it.' 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'By Allah, as soon as I realized that Allah has expanded the chest of Abu Bakr رضی اللہ عنہ to fight them, I knew that it was the truth.'
( ارتداد کا فتنہ ظاہر ہونے پر ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے جنگ کرنے کی ٹھان لی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ یہ کہنے لگیں تو ان کے خون، ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو گئے مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہر اس شخص سے لازماً جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق کرے گا۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روکیں گے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو اسے روکنے پر ان سے جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو ان مرتدین سے جنگ کرنے کے لیے کھول دیا ہے، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَر آخَر، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَأَجْمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it, then their blood and wealth are prohibited for me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah, the Mighty and Sublime.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیے مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it, then their blood and wealth are prohibited for me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah.'
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، پھر جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور اپنے مال محفوظ کر لیے مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ. ح وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ .
The Messenger of Allah [ﷺ] said: We will fight the people until they say La ilaha illallah. If they say La ilaha illallah then their blood and their wealth become forbidden to us, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم لوگوں سے اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیں تو ہم پر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو گئے مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے ۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ .
We were with the Messenger of Allah [ﷺ] and a man came and whispered to him. He said: 'Kill him.' Then he said: 'Does he bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah)?' He said: 'Yes, but he is only saying it to protect himself.' The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'Do not kill him, for I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and if they say it, their blood and their wealth are safe from me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah.'
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے رازدارانہ گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ، پھر آپ نے فرمایا: کیا وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں؟ کہا: جی ہاں، مگر اپنے کو بچانے کے لیے وہ ایسا کہتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں: جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کر لیا، مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ ، ثُمَّ قَالَ: أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنَّمَا يَقُولُهَا تَعَوُّذًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ .
A man said to him: The Messenger of Allah [ﷺ] came to us while we were in a tent inside the Masjid of Al-Al-Madinah, and he said to us: 'It has been revealed to me that I should fight the people until they say La ilaha illallah.' A similar narration.
ایک شخص کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم مدینے کی مسجد کے ایک خیمے میں تھے، وہاں آپ نے فرمایا: میرے پاس وحی آئی ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں … آگے حدیث اسی طرح ہے جیسی اوپر گزری۔
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَقَالَ فِيهِ: إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ نَحْوَهُ.
I heard Aws say: 'The Messenger of Allah [ﷺ] came to us when we were in a tent.' And he quoted the same Hadith.
میں نے اوس کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم لوگ خیمہ میں تھے پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسًا، يَقُولُ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
I heard Aws say: 'I came to the Messenger of Allah [ﷺ] among the delegation of Thaqif and I was with him in a tent. Everyone in the tent had gone to sleep except him and I. A man came and whispered to him, and he said: Go and kill him. Then he said: Does he not bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah? He said: He does bear witness to that. The Messenger of Allah [ﷺ] said: Leave him alone. Then he said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it, then their blood and their wealth become forbidden to me, except for a right that is due. (One of the narrators) Muhammad said: I said to Shu'bah: 'Doesn't the Hadith contain: Does he not testify to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah ﷺ?' He said: 'I think it is both, but I do not know.'
میں نے اوس کو کہتے ہوئے سنا:میں قبیلہ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں آپ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھا، میرے اور آپ کے علاوہ خیمے میں موجود سبھی لوگ سو گئے۔ اتنے میں ایک شخص نے آپ سے چپکے سے کہا تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو ، پھر آپ نے فرمایا: کیا یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے کہا: وہ گواہی دے رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو پھر فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا اللہ» نہ کہیں: جب وہ یہ کہنے لگ جائیں تو ان کے خون، ان کے مال حرام ہو گئے مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ۔ محمد ( محمد بن جعفر غندر ) کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے کہا: کیا حدیث میں یہ نہیں ہے «أليس يشهد أن لا إله إلا اللہ وأني رسول اللہ» ؟ وہ بولے: میرے خیال میں «أني رسول اللہ» کا جملہ «لا إله إلا اللہ» کے ساتھ ہے، مجھے معلوم نہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسًا، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَكُنْتُ مَعَهُ فِي قُبَّةٍ، فَنَامَ مَنْ كَانَ فِي الْقُبَّةِ غَيْرِي، وَغَيْرُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ . فَقَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، قَالَ: يَشْهَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرْهُ ، ثُمَّ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا . قَالَ مُحَمَّدٌ: فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ، أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، قَالَ: أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلَا أَدْرِي.
The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'I have been commanded to fight the people until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah), then their blood and their wealth become forbidden to me, except for a right that is due.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ( جب وہ اس کی گواہی دے دیں گے تو ) پھر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو جائیں گے مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ تَحْرُمُ دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا .
I heard Mu'awiyah رضی اللہ عنہ delivering the Khutbah, and he narrated a few Hadiths from the Messenger of Allah [ﷺ]. He said: I heard him delivering a Khutbah and he said: 'I heard the Messenger of Allah [ﷺ] say: Every sin may be forgiven by Allah except a man who kills a believer deliberately, or a man who dies as a disbeliever.'
میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ( انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم حدیثیں روایت کی ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر دے سوائے اس ( گناہ ) کے کہ آدمی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، یا وہ شخص جو کافر ہو کر مرے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُمُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلَّا الرَّجُلُ يَقْتُلُ الْمُؤْمِنَ مُتَعَمِّدًا، أَوِ الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا .
The Prophet [ﷺ] said: No person is killed wrongfully, but a share of responsibility for his blood will be upon the first son of Adam, because he was the first one to set the precedence, of killing.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناحق جو بھی خون ہوتا ہے اس کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے اس بیٹے پر جاتا ہے جس نے سب سے پہلے قتل کیا، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ( ناحق ) خون کرنے کی کا راستہ نکالا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، وَذَلِكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ .
The Messenger of Allah [ﷺ] said: 'By the One in Whose Hand is my soul, killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world.' Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: (One of the narrators) Ibrahim bin Al-Muhajir is not strong.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا ( ناحق ) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَتْلُ مُؤْمِنٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
The Prophet [ﷺ] said: The extinction of the whole world is less significant before Allah than killing a Muslim man.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا زوال اور اس کی بربادی کسی مسلمان کو ( ناحق ) قتل کرنے سے زیادہ حقیر اور آسان ہے ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ .
Killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world.
مومن کا ( ناحق ) قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کے ہلاک و برباد ہونے سے زیادہ بڑی بات ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا .
Killing a believer is more grievous before Allah than the extinction of the whole world.
مومن کا قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے ہلاک و برباد ہونے سے زیادہ بڑی بات ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا .