Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The rider should first greet the pedestrian, and the pedestrian the one who is seated and a small group should greet a larger group (with as-Salam-o-'Alaikum).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سوار پید ل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہو ئے کو سلام کرے اور کم لو گ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
While we were sitting in front of the houses and talking amongst ourselves, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to come there. He stood by us and said: What about you and your meetings on the paths? Avoid these meetings on the paths. We said: We were sitting here without (any intention of doing harm to the passers-by) ; we are sitting to discuss matters and to hold conversation amongst ourselves. Thereupon he said: If there is no help (for you but to sit on these paths), then give the paths their rights and these are lowering of the gaze, exchanging of greetings and good conversation.
ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے فر ما یا : " تمھا را راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجا لس سے اجتناب کرو ۔ " ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کو ئی قباحت نہیں ، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فر ما یا : " اگر نہیں ( رہ سکتے ) تو ان ( جگہوں ) کے حق ادا کرو ( جو یہ ہیں ) : آنکھ نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا ۔ "
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ فَقُلْنَا إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ قَالَ إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ.
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings. commanding of good and forbidding from evil.
آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔ "
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ.
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, عبد العزیزبن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Five are the rights of a Muslim over his brother: Returning the salam, replying by saying Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you) to one who sneezes accepting an invitation, visiting the sick nd attending funeral. responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick. following the bier. ' Abdul-Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib. Abdul Razzaq said: Mu'mar used to transmit this hadith (without mentioning the names of the Tabi'i and the Companions) and sometimes he would narrate it (from Sa'id bin Al-Musayyib) and then from Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ ).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allah's Messenger, what are these? Thereupon he said: When you meet him, offer him greetings; when he invites you to a feast accept it. when he seeks your council give him, and when he sneezes and says: All praise is due to Allah, you say Yarhamuk Allah (may Allah show mercy to you) ; and when he fails ill visit him; and when he dies follow his bier.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔ "
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ.
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔ "
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.
The Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu- 'Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa 'Alaikum (and upon you too).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔ "
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ.
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔ "
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ.
A similar report (as no. 5654) was narrated from Ibn Umar from the prophet ﷺ, except that he said: "Say: 'Wa'aalikum (and also upon you).'"
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے ۔ " تو تم پر کہو : " وعلیکم " ( تم پرہو ۔ )
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
A group of Jews came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and sought his audience and said: As-Sam-u-'Alaikum. A'isha رضی اللہ عنہا said in response: As-Sam-u-'Alaikum (death be upon you) and curse also, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , verily Allah loves kindness in every matter. She said: Did you bear what they said? Thereupon he said: Did you not hear that I said (to them): Wa 'Alaikum.
یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انھوں نے کہا ( اَسا مُ عَلَيكُم ) ( آپ پر مو ت ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عائشہ !اللہ تعا لیٰ ہر معا ملے میں نرمی پسند فر ما تا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ نے سنانہیں کہ انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میں نے ( وَ عَلَيكُم ) ( اور تم پرہو ) کہہ دیاتھا ۔ "
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ.
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I said 'Alaikum, and the transmitter did not make mention of the word and .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے علیکم کہہ دیا تھا ۔ " اور انھوں نے اس کے ساتھ واؤ ( اور ) نہیں لگا یا ۔
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.
Some Jews came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and they said: Abu'l-Qasim (the Kunya of the Holy Prophet), as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: Wa 'Alaikum. A'isha رضی اللہ عنہا reported: In response to these words of theirs, I said: But let there be death upon you and disgrace also, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , do not use harsh words. She said: Did you hear what they said? Thereupon he (the Holy Prophet ) said: Did I not respond to them when they said that; I said to them: Wa 'Alaikum (let it be upon you).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے ، انھوں نے آکر کہا : ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم !آپ پر موت ہو ) کہا آپ نے فر ما یا : " وَ عَلَيكُم ( تم لوگوں پر ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : " بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ عنہا !زبان بری نہ کرو ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : آپ نے نہیں سنا ، انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا ، میں نے کہا : تم پر ہو ۔ "
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَقَالَتْ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ.
'A'isha رضی اللہ عنہا understood their meaning and cursed them and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا (do not do that) for Allah does not like the use of harsh words, and it was at this stage that this verse of Allah. the Exalted and Glorious was revealed: And when they come to thee, they greet thee with a greeting with which Allah greets thee not (viii. 8) to the end of the verse.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی ( انھوں نے سلام کے بجا ئے سام کا لفظ بولا تھا ) اور انھیں برا بھلا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ عنہا ! بس کرو ، اللہ تعا لیٰ برا ئی اور اسے اپنالینے کو پسند نہیں فرماتا ۔ " اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے ( وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ) نازل فر ما ئی : " اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے ۔ " آیت کے آخر تک ( اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ان کے لیے دوزخ کا فی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکا ناہے ۔ )
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ (المجادلة:8)إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
Some people from amongst the Jews said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) Abu'l-Qasim. as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he said: Wa 'Alaikum, A'isha رضی اللہ عنہا was enraged and asked him (Allah's Apostle) whether he had not heard what they had said. He said, I did hear and I retorted to them (and the curse that I invoked upon them would receive response from Allah), but (the curse that they invoked upon us) would not be responded.
یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم ) آپ پر مو ت ہو!اس پر آپ نے فر ما یا : " تم پرہو ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں ۔ کیا آپ نے نہیں سنا ، جو انھوں نے کہا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " کیوں نہیں !میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہےاور ان کے خلاف ہماری دعاقبول ہو تی ہے اور ہمارے خلا ف ان کی دعا قبول نہیں ہو تی ۔ "
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا.
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدانہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو ( تو بجا ئے اس کے وہ یہ کام کرے ) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جا نے پر مجبورکردو ۔ "
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ.
When you meet the Jews. And in the hadith transmitted on the authority of Shu'ba, the words are: 'When you meet the People of the Book. And in the hadith transmitted on the authority of Jarir the words are: When you meet them, but none amongst the polytheists has been mentioned explicitly by name.
" جب تم یہود سے ملو ۔ " شعبہ سے ابن جعفر کی روایت کردہ حدیث میں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے بارے میں فرما یا ۔ اور جریر کی روایت میں ہے : " جب تم ان لوگوں سے ملو ، " اور مشرکوں میں سے کسی ایک ( گروہ ) کا نام نہیں لیا ۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ.
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by young boys he would great them.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( انصار ) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.
This hadith has been narrated on the authority of Sayyar with the same chain of transmitters.
اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ۔
و حَدَّثَنِيهِ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
I was walking with Thabit al-Bunani that he happened to pass by children and he greeted them. And Thabit reported that he walked with Anas رضی اللہ عنہ and he happened to pass by children and he greeted them. and Anas رضی اللہ عنہ reported that he walked with Allah's Apostle (ﷺ) and he happened, to pass by children and he greeted them.
میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھیں سلام کیا ، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ان کو سلام کیا ۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا .
و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " تمھا رے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جا ئے اور تم میرے راز کی بات سن لو ، ( یہ اجازت اس وقت تک ہے ) حتی کہ میں تمھیں روک دوں ".
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ.
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters.
اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، محمد بن عبداللہ بن نمیر نے اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا, عبد اللہ بن ادریس نے حسن بن عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Sauda (رضی اللہ عنہا) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ saw her and said: Sauda رضی اللہ عنہا, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She ('A'isha رضی اللہ عنہا) said: She turned back. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allah's Messenger. I went out and 'Umar رضی اللہ عنہ said to me so and so. She ('A'isha رضی اللہ عنہا) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said: Permission has been granted to you that you may go out for your needs.
پردہ ہم پرلاگو ہوجانےکےبعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں بڑی تھیں ، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی ( نظر آتی ) تھیں ۔ جوشخص انہیں جانتا ہو ( پردے کے باوجود ) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھ کر کہا : سودہ رضی اللہ عنہا !اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجئے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( یہ سنتے ہی ) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اسی وقت اللہ تعا لیٰ نے آپ پر وحی نازل فر ما ئی ، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی ، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی ، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ، آپ نے فر ما یا : تم سب ( امہات المومنین ) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو ۔ "" ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : "" ان کا جسم عورتوں سے اونچاتھا "" ابو بکر نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں یہ اضافہ کیا : تو ہشام نے کہا : آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جا نے سے تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ.
She (Sauda) was a woman who looked to be significant amongst the people (so far as the bulk of her) body was concerned. The rest of the hadith is the same.
وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کاجسم لوگوں سے اونچا ( نظر آتا ) تھا ۔ ( یہ بھی ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرمارہے تھے ۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَكَانَتْ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا قَالَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.
It was narrated from Hisham with this chain of narrators.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ۔
و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.